صاف پانی دیہات کو فراہمی کی پہل!

سلطان صدیقی

سرکار کا دعویٰ ہے کہ جل جیون مشن نے بھارت کے لاکھوں گاؤں میں پانی کی بھاری قلت کو دور کرنے کے لئے نئی پہل کا آغاز کیا ہے جہاں کبھی عورتوں کو پانی لانے کے لئے میلوں پیدل چلنا پڑتا تھا اب گھر گھر نل سے پینے  کا صاف پانی ملنے سے نہ صرف وقت اور محنت کی بچت ہورہی ہے بلکہ صاف پانی پینے سے بیماریاں بھی کم ہورہی ہیں ۔اس بارے میں بہت سی عورتوں نے اپنی بات رکھی ہے ۔ان میں ایک عورت لکشمی ڈابی جو دھار ضلع کے گاؤں جیرا پور کی باشندہ ہے بتاتی ہے گھر میں نل لگ جانے سے پانی کے لئے روزانہ کی مشقّت سے نجات ملی ہے اور پینے کا صاف پانی بھی ملنے لگا ہے۔ پانی صرف پیاس بجھانے کے لئے ہی نہیں بلکہ نہانے ،کھیتی اور زندگی کے ہر کام کے لئے ضروری ہے ۔اس لئے آج پانی کی حفاظت اور اس کو اسٹور کرنے کی ضرورت ہے اس لئے پانی کی بربادی روکی جانی چاہیے ۔دہلی میں بنے عالیشان بنگلوں میں وہاں کے مکین دہلی جل بورڈ کا سپلائی ہورہا پانی گھریلو ضرورت کے بجائے اپنے باغیچوں میں سینچائی اور فرش دھونے میں ضائع کر دیتے ہیں لیکن ہمارے سماج کو یہ معلوم نہیں ہے کہ پانی کتنا قیمتی ہے اس کو ضائع کیاجانا غلط ہوگا ۔جس دور میں سائنس اور تکنیک کے معاملے میں اونچائیاں چھونے کا دعویٰ کیاجارہا ہے اس میں آج بھی کروڑوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوپارہا ہے خاص کر دیش کی راجدھانی دہلی کی دور دراز جھکی بستیوں میں وہاں کے لوگ دور دور لگی ٹنکیوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں ۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے دیش میں جل جیون مشن کے تحت دیہاتی کنبوں کو دستیاب کرائے جارہے پانی پینے لائق نہیں ۔نل جل سہولت کا 73 فیصد آلودہ نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا جس وجہ سے سرکار کو رپورٹ دی گئی لیکن وہاں پینے کے صاف پانی کی سہولت نہیں ہے ۔سوال یہ ہے کہ ترقی کی کونسی لائن ہے جس میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی سے جڑے مسئلے کو نظر انداز کیوں کیاجاتا ہے ۔آج یہ بڑا وسیع بحران ہے اس کے پیچھے دیش بھر میں صاف پانی فراہمی انتظام میں جس طرح سے کوتاہیاں برتی جارہی ہیں کہیں آنے والے وقت میں ہماری صحت کے لئے سنگین چیلنج نہ بن جائے ۔غور طلب ہے کہ یہ سچائی کسی سے چھپی نہیں ہے ۔ آج دیش کے کئی حصوں میں لوگ گندہ پانی پینے اور اس سے پیدا بیماریوں کی چنوتی کا سامنا کررہے ہیں ۔زیادہ دن نہیں گزرے جب دیش کے سب سے صاف شہر کہلایاجانے والااندور میں آلودہ پانی پینے سے 15 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور بہت سے بیمار پڑے تھے لیکن اس طرف دھیان نہیں دیاگیا۔

اندور کوئی اکیلا شہر نہیں ہے جہاں پینے کا پانی میں آلودگی خطرناک سطح پر مل گئی ہے یعنی گھریلو گندہ پانی نالیوں سے نکلتا ہے اور پانی کے لئے بچھائی گئی پائپ لائن برسوں سے بوسیدہ اور گل گئی ہیں ۔ان کے گلنے سے ان میں سوراخ ہو گئے ہیں جس سے پینے کی پائپ لائن میں یہ گندگی مل رہی ہے۔ معاملہ نہ بڑھے اس کو دبا دیاجاتا ہے شاید کبھی پینے کے پانی اور سیور کی پائپ لائن کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کوئی محکمہ لینے کو تیار نہیں ہے۔حالانکہ یہ ذمہ داری پانی سپلائی کرنے والی انتظامیہ کی ہوتی ہے لیکن اس پلان پر ٹھوس طریقہ سے کام نہیں ہوپارہا ہے ۔لوگ گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں اکثر دہلی کے علاوہ اتر پردیش ،بنگال ،بہار سے بھی آلودہ پانی سے کھانا پکانے اور نہانے جیسی روز مرہ کی ضرورتوں کے لئے پانی کا استعمال ہورہا ہے۔ غریب لوگ سرکاری پانی کنکشن نہ ملنے سے زمین میں بورنگ کے ذریعے نکالے گئے پانی پینے کو مجبور ہیں اس پانی میں آرسونک امونیا یا دیگر خطرے والے جراثیم پیدا ہونے کی خبریں آئی ہیں اس کے علاوہ ہر گھر جل ابھیان کے تحت جس صاف پانی کی سپلائی کا دعویٰ کیاجاتا ہے وہ آلودہ ہے ۔ہمارے دہلی جل بورڈ کو ہی لے لیجئے جھگی بستیوں سے گزررہی پائپ لائنوں میں پانی بہتا نظر آتا ہے اور اس کے ذریعے گندہ پانی بھی مل جاتا ہے جو صحت کے لئے بڑا خطرہ بناہوا ہے ۔آخرکار دہلی جل بورڈ اور ہماری جل جیون مشن کو چلانے والی مرکزی سرکار آلودہ پانی کے مسئلے پر کب جاگے گی اور اس کو حل کرنے کے لئے وہ کیا اقدم کررہی ہے ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

لنگی میں

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟